مغلوں کے جد امجد ،منگول سرپرست،خاقانِ اعظم …چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد کہاں ہیں؟

پاکستان میں مغلوں کی کل آبادی کتنی ہونی چاہیے ؟
کتنے مغل ہیں جو اپنی پہچان سے آج بھی ناواقف ہیں؟
درج ذیل رپورٹ پڑھئے اور رہنمائی کیجئے! “آج کے کروڑوں افراد چنگیز خان کی نسل سے ہیں!
12مارچ2015
اسلام آ باد( نیوز ڈیسک ) چنگیز خان سے کون واقف نہیں ، اس شخص نے ایشیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ ایک نئی تحقیق جس کے بارے میں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔یونیورسٹی آف لی سسٹر کے ماہرین نے اس بات کا پتہ چلایا ہے کہ کروڑوں ایشیائی باشندے صرف 11طاقتور افراد کی نسل سے ہیں، یہ طاقتور افراد تقریباً چار ہزار سال کے دوران ان علاقوں میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص چنگیز خان بھی ہے۔ یورپی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ کروموسوم جو باپ سے اپنے بیٹے کو منتقل ہوتا ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے127علاقوں سے5ہزار سے زائد ایشیائی باشندوں کا ٹیسٹ لیا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے جب اس کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ گیارہ اقسام کے کروموسوم زیادہ تر لوگوں میں پائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کروموسوم بارہویں اور تیرہویں صدی کے جنگجو چنگیز خان کا تھا جبکہ دوسرا جیوکانگا کا ہے جو 16ویں صدی عیسوی کا لیڈر تھا۔ دیگر 9کروموسوم ایسے لیڈروں کے ہیں جو2100قبل مسیح اور کچھ ساتویں صدی کے ہیں۔ ریسرچ پراجیکٹ کے سربراہ پروفیسر مارک جوبلنگ کا کہنا ہے تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر کروموسوم مختلف علاقوں کو فتح کرنے کی وجہ سے ایک جیسے ثابت ہوئے۔ ان سے پیدا ہونے والے بچوں سے آگے نسل چلتی گئی۔ یوں نسل در نسل بچے پیدا ہوتے گئے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چنگیز خان وہ جنگجو تھا جس کی نسل کے لوگ سب سے زیادہ علاقوں میں موجود ہیں
کتنے مغل ہیں جو اپنی پہچان سے آج بھی ناواقف ہیں؟
درج ذیل رپورٹ پڑھئے اور رہنمائی کیجئے! “آج کے کروڑوں افراد چنگیز خان کی نسل سے ہیں!
12مارچ2015
اسلام آ باد( نیوز ڈیسک ) چنگیز خان سے کون واقف نہیں ، اس شخص نے ایشیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ ایک نئی تحقیق جس کے بارے میں جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔یونیورسٹی آف لی سسٹر کے ماہرین نے اس بات کا پتہ چلایا ہے کہ کروڑوں ایشیائی باشندے صرف 11طاقتور افراد کی نسل سے ہیں، یہ طاقتور افراد تقریباً چار ہزار سال کے دوران ان علاقوں میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک شخص چنگیز خان بھی ہے۔ یورپی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وہ کروموسوم جو باپ سے اپنے بیٹے کو منتقل ہوتا ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے127علاقوں سے5ہزار سے زائد ایشیائی باشندوں کا ٹیسٹ لیا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے جب اس کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ گیارہ اقسام کے کروموسوم زیادہ تر لوگوں میں پائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کروموسوم بارہویں اور تیرہویں صدی کے جنگجو چنگیز خان کا تھا جبکہ دوسرا جیوکانگا کا ہے جو 16ویں صدی عیسوی کا لیڈر تھا۔ دیگر 9کروموسوم ایسے لیڈروں کے ہیں جو2100قبل مسیح اور کچھ ساتویں صدی کے ہیں۔ ریسرچ پراجیکٹ کے سربراہ پروفیسر مارک جوبلنگ کا کہنا ہے تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیادہ تر کروموسوم مختلف علاقوں کو فتح کرنے کی وجہ سے ایک جیسے ثابت ہوئے۔ ان سے پیدا ہونے والے بچوں سے آگے نسل چلتی گئی۔ یوں نسل در نسل بچے پیدا ہوتے گئے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چنگیز خان وہ جنگجو تھا جس کی نسل کے لوگ سب سے زیادہ علاقوں میں موجود ہیں